May 26, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/corsicabikes.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

سی بی سی نیوز کی ایک خبر کے مطابق ہندوستان اور پاکستان نے کنیڈا کے انتخاب میں مداخلت کی کوشش کی۔خالصتانی تحریک کی مخالفت کے پیش نظرہندوستان نے اپنے کارندے کے ذریعے غیر قانونی طور پر ہندوستان حامی امیدواروں کی مالی امداد کی جبکہ پاکستان نےوفاقی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ہندوستان نے اسے مضحکہ خیز اور گمراہ کن قرار دیا۔

Justin Trudeau. Photo: INN

جسٹن ٹروڈو۔ تصویر : آئی این این

سی بی سی نیوز نے جمعہ کو کنیڈا کی سیکوریٹی  انٹیلی جنس سروس کی طرف سے ایک دن قبل منظر عام پر آنے والی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے ایک خبر شائع کی جس میں یہ بتایا گیا کہ ہندوستانی اور پاکستانی حکومتوں نے ۲۰۱۹ءاور۲۰۲۱ء میں کنیڈاکے عام انتخابات میں مداخلت کرنے کی کوشش کی۔
ایجنسی کے دستاویزات کے ایک غیر مرتب شدہ خلاصے میں الزام لگایا گیا ہے کہ۲۰۲۱ء میں ہندوستانی حکومت نے مداخلت کرنے کا ارادہ کیا تھا اور ممکنہ طور پر شمالی امریکہ کے ملک میں خفیہ سرگرمیاں انجام دی تھیں۔ انٹیلی جنس ایجنسی نے الزام لگایا کہ اس میںکنیڈامیں ہندوستانی حکومت کےقائم مقام ایجنٹ کا استعمال شامل ہوسکتا ہے۔
خلاصےمیں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے ایک قائم مقام ایجنٹ نے ہندوستان نواز امیدواروں کو غیر قانونی مالی مدد فراہم کی ہے۔
‏سی بی سی نیوز کے مطابق کنیڈائی سیکوریٹی انٹیلی جنس سروس نے الزام لگایا کہ ہندوستانی اہلکاروں نے انتخابی اضلاع کی ایک چھوٹی تعداد کو نشانہ بنایا کیونکہ نئی دہلی کے اس تاثر کے مطابق کہ ’’ہند-کنیڈائی رائے دہندگان کا ایک حصہ خالصتانی تحریک یا پاکستان کے حامی سیاسی موقف سے ہمدردی رکھتا ہے۔‘‘
خالصتان تحریک دراصل ہندوستان سے علیحدگی اختیار کرکے سکھوں کیلئے ایک ملک بنانے کی مہم ہے۔انٹیلی جنس ایجنسی نے مزید الزام لگایا کہ پاکستانی حکام نے کنیڈا میں حکومت پاکستان کے مفادات کو آگے بڑھانے کے مقصد سے خفیہ طور پر کنیڈا کی وفاقی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ۔ 
ستمبر میں، کینیڈا کی حکومت کی طرف سے ۲۰۱۹ءاور۲۰۲۱ کے عام انتخابات میں بیرونی ممالک کی مبینہ مداخلت کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ یہ کمیشن کنیڈامیں انتخابات پر اثر انداز ہونے کی چینی کوششوں کی اطلاعات کے جواب میں تشکیل دیا گیا تھا۔ 
۲۴؍ جنوری کوکنیڈائی سیکوریٹی انٹیلی جنس سروس نے ہندوستا نی مداخلت کو غیر ملکی خطرہ قرار دیا تھا جس نے شمالی میں جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔
ہندوستانی حکومت نے فروری میں ان ’’بے بنیاد‘‘ الزامات کو مسترد کر دیا تھا کہ اس نےکنیڈا میں جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’دوسرے ممالک کے جمہوری عمل میں مداخلت کرنا حکومت ہند کی حکمت عملی نہیں ہے۔‘‘
  سی بی سی نیوز کے مطابق جمعہ کوکنیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے، الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے غیر ملکی مداخلت کے انسداد کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ ہم کئی  برسوں سے جانتے ہیں کہ بہت سے مختلف ممالک کنیڈا کے اداروں پراثر اندازہونے میں دلچسپی لیتے ہیں، اور کبھی کبھی متاثر ہوتے ہیں ۔میں لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر وہ کام کرتے رہیں گے جو کسی بھی ملک سے ہونے والی مداخلت کو روکنے کیلئے ضروری ہے۔
نئی دہلی اور اوٹاوا کے درمیان سفارتی تعلقات ستمبر کے بعد سے کشیدہ ہیں، جب کنیڈاکے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ملک کی پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ  انٹیلی جنس ایجنسیاں سکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں ہندوستانی حکومت کے ایجنٹوں کے ملوث ہونےکے ’معتبر الزامات ‘کی سرگرمی سے پیروی کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ نجار کو جون میں دو نقاب پوش افراد نے وینکوور کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ نئی دہلی نے کنیڈا کے الزامات کو مضحکہ خیز اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا ۔ ہندوستانی حکومت نے ان دعوؤں کو اوٹاوا کی طرف سے خالصانی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے طور پر بھی بیان کیا جنہیں کنیڈا میں پناہ دی گئی ہے اور وہ ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *