May 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/corsicabikes.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Demonstrators blockade the entrance to BAE Systems' factory during a protest by 'Workers for a Free Palestine', calling for an end to arms sales to Israel, and supporting an immediate ceasefire between Israel and Hamas, near Rochester, south east England on November 10, 2023. (AFP)

برطانوی سپریم کورٹ کے سابق ججوں نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت بند کر دی جائے۔ برطانیہ کی سپریم کورٹ کے ان تین سابق ججوں نے بھی برطانیہ کے قانون و عدالت سے وابستہ 600 سے شخصیات کے اس مطالبے کی حمایت کر دی ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت روک دی جائے۔

مطالبہ کرنے والے قانون دانوں اور ججوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی کا مطلب اسرائیلی فوج کے ہاتھوں جاری نسل کشی کا حصہ بننا ہے۔ خیال رہے برطانیہ میں اسرائیل کو اسلحہ روکنے کی آواز بلند کرنے والوں کی تعداد میں اضافے اور اپوزیشن جماعتوں کے شامل ہونے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے سابق 3 جج حضرات کا اسی مطالبے کے ساتھ آ ملنا غیرمعمولی بات ہے۔

برطانیہ میں قانون کے پیشہ سے وابستہ افراد کا یہ مطالبہ برطانوی بیرسٹرز، سابق جج حضرات اور قانون کے اساتذہ کی طرف سے وزیراعظم رشی سونک سے کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی لائیں۔ بصورت دیگر اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں ہونے والی نسل کشی کا برطانیہ بھیی حصہ بن جائے گا۔

برطانوی وزیراعظم رشی سونک ان دنوں غیرمعمولی طور پر دباؤ کی زد میں ہیں کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی ترسیل اور فروخت کو روکنے کے اقدامات کریں۔ امدادی کارکن اور برطانوی شہری کی غزہ میں ہلاکت نے اس سیاسی دباؤ کو ایندھن فراہم کیا ہے۔

برطانوی اپوزیشن کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے قانون سازوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت معطل کرنے پر غور کیا جائے۔ لبرل ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی برآمد معطل کی جائے۔ سکاٹش نیشنل پارٹی نے بھی اس تحریک کی حمایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمان ایسٹر کے سلسلے میں اپنی چھٹیوں کو منسوخ کر کے اس بحران پر بحث کرے۔

ججوں اور قانون دانوں کی طرف سے وزیر اعظم کو 17 صفحات پر مشتمل لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو فوجی مدد اور جنگی آلات کی فراہمی سے اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی نسل کشی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں برطانیہ کو بھی شامل سمجھا جائے گا۔

واضح رہے بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی غلط کام کو کرنے والے کو مدد دینا بجائے خود ایک غلط اقدام سمجھا جاتا ہے۔ برطانوی سپریم کورٹ کے سابق تین ججوں میں سے ایک جوناتھن سمپشن ہیں۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ میں برطانوی حکومت کے بارے میں فکر مند ہوں کہ کہ اس نے نسل کشی کو دیکھنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔

برطانیہ اسرائیل کو بارودی اور دھماکہ خیز اسلحہ فراہم کرتا ہے، نیز بندوقوں کے علاوہ فوجی طیارے بھی دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بعض دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بہت کم اسلحہ دینے والا ملک ہے۔ اسرائیل کے لیے برطانیہ کی برآمدات تمام دنیا کی مجموعی برآمدات کا صفر اعشاریہ چار فیصد ہیں۔

برطانوی قانون دانوں کا کہنا ہے کہ ‘ماہ جنوری میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل سے کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو بین الاقوامی قانون کے مطابق نسل کشی کے زمرے میں آتے ہوں۔ نیز غزہ میں قحط پیدا کرنے کے اقدامات سے بھی گریز کرے۔’ اب بین الاقوامی امدادی کارکنوں پر اسرائیلی بمباری اور سات کارکنوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کے خلاف غم و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے اسرائیل کو اسلحہ فروخت روکنے سے متعلق مطالبہ کی مزاحمت کرتے ہوئے کہا ہے ‘ملک میں اسلحہ کی برآمدات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔’

اخبار ‘سن’ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم برطانیہ نے کہا ہے کہ ‘ملک کا اسلحہ سے متعلق برآمدی لائسنس کا نظام بڑی احتیاط کے ساتھ وضع کیا گیا ہے اور سارے حساس پہلوؤں کو خیال میں رکھ کر بنایا گیا ہے اور اسی پر عمل کیا جاتا ہے’۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *