May 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/corsicabikes.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

داریا کوٹسا رینکوگزشتہ دنوں سیاحت کی غرض سے دبئی گئی تھیں جہاں انہوں نے ۲۵؍ مارچ کو اسلام قبول کیا تھا، القصی قبرستان میں سپرد خاک۔

View of Dariyakotsa Renko`s funeral prayer at Al-Qasi Cemetery Mosque. Photo: Gulf Times

القصی قبرستان مسجد میں داریاکوٹسا رینکو کی نماز جنازہ کا منظر۔ تصویر:خلیج ٹائمس

یوکرین سے تعلق رکھنے والی۲۹؍ سالہ خاتون کا دبئی میں اسلام قبول کرنے کے چند گھنٹے بعد انتقال ہوگیا، خاتون کی نماز جنازہ میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق داریا کوٹسارینکو نامی یوکرینی خاتون گزشتہ دنوں سیاحت کیلئے متحدہ عرب امارات پہنچیں اور پھر یہاں نوکری کی تلاش شروع کر دی، اس دوران انہیں نہ صرف کریئر کے مواقع ملے وہ بلکہ مذہب اسلام سے بھی متاثر ہوئیں۔ کوٹسا رینکو عیسائی تھیں اور انہوں نے۲۵؍ مارچ کو دبئی میں ہی اسلام قبول کیا تھا۔ 
 رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام قبول کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہی انہیں دل کا دورہ پڑا۔ وہ روزے کی حالت میں انتقال کرگئیں۔ سماجی پلیٹ فارم ایکس پر ’جنازہ یو اے ای‘ کی جانب سے کی گئی ایک پوسٹ میں بتایا گیا کہ خاتون کا دبئی میں کوئی رشتہ دار نہیں تھا، خاتون کی نمازہ جنازہ کیلئے بڑی تعداد میں افراد القصی قبرستان کی مسجد میں جمع ہوئے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں ۲۰۲۲ء میں لوئس جین مچل نامی۹۳؍ سالہ خاتون (جنہیں ام یحییٰ کے نام سے جانا جاتا ہے) اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد انتقال کر گئی تھیں، اس وقت وہ اپنے بیٹے کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے دورے پر تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت، ۲۴؍گھنٹے میں ۸۲؍فلسطینی شہید

 دبئی کے امام اور اسلامک کنٹینٹ کرئیٹر فارس الحمادی نے بتایا کہ’’ داریا پہلی مرتبہ تین سال قبل دبئی آئی تھیں۔ ان میں یہاں کی مقامی تہذیب اورمذہب کے تعلق سے گہرا تجسس تھا۔ اسی تجسس نے انہیں تحقیق پر آماد ہ کیا، انہوں نے سوالات کئے اورمزید معلومات حاصل کرتی رہیں۔ دبئی کے اپنے ابتدائی دورہ کے بعد داریا دیگر ممالک بھی گئیں، پھر واپس دبئی آکر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ‘‘
 فارس الحمادی نے مزید بتایاکہ’’ اسلام قبول کرنے سے قبل بھی داریا کوٹسا رینکو کا طرز زندگی شائستہ تھا۔ وہ بنیادی طور پر پرہیز گار تھیں۔ ان کا قبول اسلام واقعی قابل رشک ہے۔ ‘‘
 داریا کے انتقال کی خبر نےدبئی میں مسلموں اورغیر مسلموں اور مقامی وغیر مقامی افرادکو یکساں طور پرغمگین کردیا۔ سوشل میڈیا پر داریاکیلئے یکے بعد دیگرے تعزیتی پیغامات بھیجے جانے لگے۔ رمضان کے مبارک مہینے میں اورقبول اسلام کی سعادت کے بعدایسی موت پررشک کا بھی اظہار بھی کیاگیا اوران کیلئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *