May 26, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/corsicabikes.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے متعلق امید میں کمی کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے موساد کے سربراہ کو دوحہ واپس بھیجنے پر اتفاق کر لیا۔

موساد اور شاباک کے سربراہان

اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو نے ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں مکمل کرنے کے لیے وفد کی واپسی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ چینل نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے موساد کے سربراہ کی دوحہ واپسی اور شاباک انٹیلی جنس سروس کے سربراہ کو اگلے ہفتے کے اوائل میں قاہرہ بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ قبل حماس اور اسرائیل کے درمیان قطر میں بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی جس میں امید کی ایک علامت دیکھی گئی تھی۔ تاہم تفصیلات اور کچھ بقایا حالات پر بحث کے بعد ان امیدوں سے تیزی سے دم توڑ دیا تھا۔

یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان مصری، قطری اور امریکی ثالثی کے ذریعے گزشتہ دسمبر سے مذاکرات جاری ہیں۔ یہ مذاکرات حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کئے جارہے۔ حماس کے پاس 130 اسرائیلی موجود ہیں جن میں سے 30 کے متعلق اسرائیلی بمباری اور گولہ باری میں مارے جانے کا خیال بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اختلافات جاری رہے۔ یہاں تک کہ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے گزشتہ پیر کو اعلان کیا کہ محصور غزہ کی پٹی میں کئی مہینوں سے جاری جنگ بندی کے مذاکرات اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔ جنگ بندی کے دوران حماس نے اسرائیل کے غزہ کی پٹی میں موجود رہنے سے انکار کردیا تھا۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا دوحہ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں تل ابیب نے بھاری قیمت ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جبکہ حماس نے ضد کا مظاہرہ کیا۔ حماس نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ اسرائیلی خواتین فوجیوں کے بدلے رہائی پانے والوں کی فہرست کو ویٹو کرنے کا حق اسرائیل کو حاصل نہیں ہوگا۔ ہر ایک خاتون فوجی کے بدلے حماس کے عمر قید کی سزا پانے والے 7 قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا۔

امریکی دباؤ

اسرائیل کے مذاکرات شروع کرنے پر رضامندی واشنگٹن کی طرف سے تل ابیب پر مذاکرات میں پیش رفت کرنے اور دنوں میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکی دباؤ کے درمیان سامنے آئی۔ یاد رہے حماس شمال میں بے گھر ہونے والوں کی واپسی اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے پر قائم ہے اور اسرائیلی اسے مسترد کررہا ہے۔

حماس نے بھی کسی معاہدہ تک نہ پہنچنے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے کیونکہ اس نے اب تک فوجی حملے کو ختم کرنے، غزہ کی پٹی سے اپنی افواج کو واپس بلانے اور بے گھر ہونے والوں کو شمال میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *