May 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/corsicabikes.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

غزہ پالیسی کا رخ بد لنے پر زور

U.S. Rep. Ro Khanna, D-Ca., speaks to a group of college Democrats, Thursday, Feb. 22, 2024, in Ann Arbor, Mich. Khanna's visit to Michigan includes meetings with Arab American leaders in metro Detroit. (AP)

مشی گن میں میں صدر جوبائیڈن کے اتحادی ڈیموکریٹس ان کے لیے سر گرم ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مشی گن میں جمعرات کے روز اہم ملاقاتوں کا اہتمام تھا۔ مقامی عرب رہنما کافی شاپ میں میٹنگ کے لیے داخل ہوئے تو انہوں نے ہال میں پہلے کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے روکھنہ کا خیر مقدم کیا اور پھر کرسیاں کھینچ کر بیٹھ گئے۔

یہ اہم میٹنگ اگلے دو گھنٹوں پر محیط رہی ۔ اجلاس آہستہ آہستہ گرما گرما اور کھلی ڈلی گفتگو کی طرف بڑھتا گیا۔ ملاقات کے لیے موجود عرب رہنماؤں نے کھل کر اپنے نقطہ نظر کا غزہ میں اسرائیلی جنگ اور امریکی پالیسی کے بارے اظہار کیا۔ نیز اس نمائندے کو بتایا کہ کس طرح یہ لوگ غزہ میں جنگ سے براہ راست اور ذاتی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔

عرب رہنماؤں نے ہر روز غزہ میں بڑھنے والی فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور بے گھروں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں اپنی تشویش ظاہر کی ۔ یہ ایک ایسی گفتگو تھی جو کسی چھلنی سے گزر کر جوبائیڈن کے اس نمائندے تک نہیں پہنچ رہی تھی ۔ بلکہ سامنے اور بٹھا کر کی جا رہی تھی۔

ایک روزہ اجلاس کے بعد یہ صاف نظر آرہا تھا کہ کے فریقین جوبائیڈن انتطامیہ کی غزہ اور اسرائیل کے بارے میں موجودہ حکمت عملی کی تبدیلی کے بعد ہی واپس ایک دوسرے کے قریب آسکیں گے۔

جوبائیڈن اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ابتدائی نوعیت کی حمایت میں جیت کے آرزو مند ہیں ، جو انہین ڈیموکریٹس کی سطح پر ہی ملنی ہے۔ ان کے اتحادی اس کوشش میں بھی ہیں کہ جوبائیڈن کو کسی مشکل کے بغیر آگے نکلتا دیکھانا چاہتے ہیں۔

مشی گن کی عرب امریکی کمیونٹی نے حالیہ ہفتوں کے دوران جوبائیڈن کے کسی رابطہ کار کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔ ان میں راشدہ طلائب بھی شامل ہیں جو اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے جوبائیڈن انتطامیہ کی پالیسی سے خوش نہیں ہیں۔ خود کھنہ بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اور کہہ چکے ہیں کہ وہ مشی گن انتخابی مہم کے کھاتے میں نہیں آئے تھے ۔

ان کا موقف تھا کہ ڈیموکریٹس کو منگل کے دن کا انتطار نہیں کرنا چاہیے کہ جوبائیڈن کو دوبارہ صدر منتخب ہونے میں مشکل کا سامنا رہے۔ اس لیے اصلح چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ‘ جو میں پیر کے روز سوچ رہاتھا وہی بدھ کے روز سوچ رہا تھا۔’ہمیں اپنے طریقہ کار کو بدلنا ہوگا اور اس کے لیے دیر نہیں کرنا ہو گی بلکہ جلدی کرنا ہو گا۔’

وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی دوریاستی پالیسی کے حوالے سے بھی عدم اتفاق کیا ہے۔ اس بارے میں دنیتن یاہو اور اس کی حکومت انتہائی دائیں بازو کے اتحادی بھی یاہو کی طرح سوچتے ہیں۔ رفح کے بارے میں بھی نیتن یاہو کی پالیسی اس کے باوجود جنگ کی ہے غزہ میں 30 ہزار کے لگ بھگ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے ترجمان عمار موسیٰ نے کہا ہے کہ جوبائیڈن عرب امریکی رہنماؤ کے ساتھ بہت قریب سے اور فخر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ جوبائیڈن اسرائیل کو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے جو بھی کیا جانا ضروری ہے کی جانا چاہیے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *