May 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/corsicabikes.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
In this combination of photos, President Joe Biden speaks on Aug. 10, 2023, in Salt Lake City, left, and former President Donald Trump speaks on June 13, 2023, in Bedminster, N.J. (AP Photo)

ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن دونوں میں سے کوئی ایک بھی ایک بار پھر صدر بننے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے لیے سابق امریکی سفیر اور قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے ‘العربیہ’ کے رض خان کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔

جان بولٹن نے کہا ‘وہ ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں نہ ڈیموکریٹ جوبائیڈن کی۔ بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ 2020 کے منظر نامے کو صدارتی انتخاب کے ذریعے دہرانا بڑا ہی مایوس کن ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارا سسٹم نئے سرے سے ان دونوں کے درمیان دوبارہ سے ‘میچ’ کروا رہا ہے۔ یہ بڑا ہی امیوس کن معاملہ ہے۔ مختلف پولز کے دوران 70 فیصد لوگوں نے اس کو ناپسند کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ ملک کی بدقسمتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ملک میں ایک نئی نسل سامنے آئے جو صدارتی دفتر کے لیے باہم مقابلہ کرے۔ ‘
بولٹن نے کہا لوگوں کی بڑی تعداد ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی پسند نہیں کرتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الیکشن ایک اچھے صدر کے انتخاب کے لیے نہیں ہو رہا بلکہ کم برا صدر منتخب کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ جسے لوگ پسند نہیں کریں گے اس کے مقابلے میں کم پسند کیے جانے والے کو خودبخود صدر بننے کا موقع مل جائے گا۔ یہ انتخاب کا ایک خوفناک طریقہ ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر نے کہا بین الاقوامی سطح پر موجود بحران اور اس میں امریکہ کا ملوث ہونا امریکہ کے 2024 کے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں وائٹ ہاؤس ان ساری سفارتی کوششوں کے حوالے سے پریشان ہے۔ ہمیں اس وقت یوکرین میں ایک جنگ کا سامنا ہے اور مشرق وسطیٰ میں بھی ایک جنگ کا سامنا ہے۔ جبکہ ہماری تائیوان کے حؤالے سے کشیدگی شروع ہو چکی ہے۔ ان سب کے معاشی مضمرات بہرحال امریکہ کو بھگتنا ہوں گے۔

ٹرمپ کی ناموزونیت

سابق امریکی ذمہ دار جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام کر رکھا ہے اور وہ 2018 سے 2019 تک ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ رہ چکا ہے کا کہنا ہے ‘ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ قومی مفاد کے بہت سے شعبوں سے متعلق عملی آگاہی نہیں رکھتے۔’ جان بولٹن کا بنیادی تجزیہ یہ ہے کہ ‘وائٹ ہاؤس میں 17 ماہ کے تجربہ کا یہ کہتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کے لیے موزوں آدمی نہیں ہے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ امریکی وفاق اور امریکی وفاقی حکومت کس طرح کام کرتی ہے۔ جب وہ صدر بنے تھے تو انہیں اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں اور جب ہم نے اقتدار چھوڑا اس وقت بھی وہ زیادہ آگاہ نہیں تھے۔’

جان بولٹن نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا ‘ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ چیزوں کی پروا کرنے والے آدمی نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ کے قومی مفادات کے حوالے سے بھی زیادہ سوچنا ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ صرف اپنے مفادات کی روشنی میں چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ وہ کسی سیاسی فلسفہ کے ماننے والے نہیں ہیں۔ انہیں مختلف موضوعات پر پالیسیز کی شد بد نہیں ہے۔ بلکہ ساری کی ساری سوچ موقع پرستانہ اور عبوری نوعیت کی رکھتے ہیں۔ اس لیے اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا کہ اگلے لمحے میں ٹرمپ کیا کرنے کا فیصلہ کر لیں گے۔’

جان بولٹن ڈونلڈ ٹرمپ کی نااہلی کے بارے میں بار بار بات کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنی کتاب میں بھی اس کا تذکرہ کر چکے ہیں اور بہت سارے انٹرویوز میں بھی یہ بات کہہ چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک غیر معمولی بین الاقوامی اتحاد ‘نیٹو’ سے امریکہ کو الگ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ یہ اتحاد یورپ اور شمالی امریکہ کے ممبر ملکوں کو اگرچہ تحفظ دیتا ہے اور ان کی سلامتی کے لیے دستیاب ہوتا ہے۔ ٹرمپ کو اس بات کی بھی پروا نہیں ہوگی کہ روس یوکرین میں اپنی جنگ کو تیسرے سال کی طرف کھینچ رہا ہے۔ چین امریکی اتحادی تائیوان پر حملہ کا سوچ رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں ایک جنگ جاری ہے۔ ان حالات میں مختلف اتحاد اور باہمی مدد و حمایت بین الاقوامی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر ٹرمپ کی سوچ ان اتحادوں کے حق میں نہیں ہے۔’

جب امریکہ کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن سے یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ امریکہ کے لیے ٹرمپ کو زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں یا ایران کو ۔ تو بولٹن کا کہنا تھا ‘ وہ اس میں ایران کو جتوا دیں گے۔ ‘ انھوں نے کہا ‘میرے خیال میں ٹرمپ جب اس طرح کی صورتحال سے گزریں گے تو امریکہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے گا۔ کیونکہ اس کی وجہ سے کافی نقصان ہوا ہے۔ اگر وہ دوبارہ صدر منتخب ہوں گے تو اور نقصان ہوگا۔ ‘

واضح رہے ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں عدالتوں میں مختلف کیس بھگت رہے ہیں جس میں یہ بھی کیس شامل ہے کہ انہوں نے 2020 کے الیکشن کو خراب کرنے کے لیے غلط ذرائع استعمال کیے اور امریکہ کی خفیہ معلومات کو وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد استعمال میں لائے۔ ٹرمپ کے بارے میں بہت سارے امریکی اس وجہ سے بھی تشویش رکھتے ہیں کہ ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اگلے لمحے میں کیا فیصلہ کریں گے اور کس طرف چل پڑیں گے۔

جوبائیڈن کے بغیر بھلائی

جان بولٹن ٹرمپ کی طرح جوبائیڈن کےاگلے چار سال کے لیے صدر بننے کے بھی حق میں نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں’ یہ ملک کے لیے اچھا ہو گا کہ جوبائیڈن پرووقار انداز میں خود ہی صدارتی امیدواریت سے الگ ہونےکا اعلان کردیں۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں لگتا کہ وہ ایسا کوئی کارڈ رکھتے ہیں۔اس لیے میں اگلا صدارتی انتخاب بہت ہی تلخ قسم کی تقسیم پیدا کرنے والا صدارتی انتخاب ہو گا۔ جو ملک کے لیے اچھا نہیں ہو سکتا ہے۔

عالمی سطح پر موجود تنازعات کے تناظر میں قومی سلامتی کے سابق مشیر نے کہا ‘ آنے والا صدارتی انتخاب ایک سخت مقابلے والا انتخاب ہو گا۔ بین الاقوامی سطح پر پھیلے ہوئے تنازعات جوبائیڈن کی بطورصدر موجودگی اور اظہار کو بہت متاثر کریں گے۔

تازہ ترین تقسیم کا منظر مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کی جنگ کی صورت سامنے ہے۔ غزہ میں جنگ کے آغاز سے اب تک 30 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جوبائیڈ انتظامیہ مکمل طور پر اسرائیل کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ گروپو کے خلاف اپنے دفاع میں مصروف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *