May 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/corsicabikes.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

بھارتی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ لوک سبھا کے اگلے چناؤ کے لئے ووٹ ڈالنے کا عمل 19 اپریل سے شروع ہو جائے گا۔ الیکشن حکام کے مطابق انتخابی عمل میں 97 کروڑ کے قریب ووٹر اپنا ووٹ استعمال کر سکیں گے۔

واضح رہے ووٹوں کی تعداد کے اعتبار سے بھارت سب ملکوں سے زیادہ پھیلا ہوا انتخابی عمل رکھنے والا ملک ہے۔ جہاں لوگ اپنے پسند کے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ تاہم بھارتی جمہوریت کی روح پر اقلیتوں کے ساتھ بد سلوکی، چھوت چھات یا ذات پات کی اونچ نیچ اور نسل پرستی جیسی بد روحوں کا اب زیادہ غلبہ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ پچھلے دس برسوں سے بطور خاص بھارتی اقلیتیں خود کو ہندوتوا کے زیر تسلط محسوس کرتی ہیں۔ ان کی طبقاتی، مذہبی اور سیاسی حقوق ہندوتوا نے کافی متاثر کیے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی اقلیتوں کی لوک سبھا میں نمائندگی ان کے ووٹوں کی تعداد کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ابھی ایک تازہ اثر شہریت کے نئے متعارف کرائے گئے قانون سے بھی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

اسی ہندوتوا کے غلبے کے ماحول نے انتہائی مذہبی ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے نریندر مودی کی دو مرتبہ مسلسل جیت کے بعد اب تیسری بار جیت کی راہ بھی ہموار لگتی ہے۔ عام تاثر ہے کہ مودی اور ان کی جماعت تیسری بار بھی لوک سبھا کا چناؤ آسانی سے جیت جائے گی۔ جبکہ ان کے مقابل کئی چھوٹی بڑی جماعتوں کا اتحاد مشکلات میں گھرا رہے گا۔

مبصرین کے مطابق مودی ایک بار پھر وزارت عظمی کےمضبوط امید وار کے طور پر میدان میں ہیں۔ ان کے دو ادوار میں کئے گئے معاشی اور ہندوتواکے لیے کیے گئے اقدمات نے ان کی ہندو انتہا پسندوں میں مقبولیت کو بہت بڑھا دیا ہے۔ ان کی حکومت آنے والے برسوں میں اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کے موجودہ اتحادیوں کی طرح زیادہ توانا اور جارح ہونے کا اپنا تاثر پیدا کرنے کی صلاحیت ظاہر کر سکتی یے۔

تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد 73 سالہ مودی بھارت میں مہاتما گاندھی کی سوچ کے مقابل اب تک کے سب سے مضبوط رہنما کے طور پر بھارت کا جمہوری،سیاسی اور ثقافتی و نسلی سوفٹ وئیر تبدیل کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ جیسا کہ ان کی ہندو انتہا پسند حمایت ان سے توقع کرتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگلے پانچ دس برسوں کے دوران ایک بالکل بدلا ہوا بھارت دنیا کے سامنے ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ان کی حکومت کے دور میں کئے گئے مختلف اقدامات اور کئی ماہ سے جاری انتخابی مہم سے بھی اندازہ لگایا جارہا ہے۔

مبصرین کے مطابق مودی کے معتمد ساتھی اور اتر پردیش کے انتہا پسند وزیر اعلی نے جس طرح اپنے مخالفین خصوصا مسلمان اقلیت کے خلاف بلڈوزر کا استعمال کر کے ان کی جائیدادوں۔ گھروں اور مراکز کو تہس نہس کر کے ہندو اکثریت کا اندھی حمایت حاصل کی ہے اسی طرح مودی کی تیسری حکومت بھی اقلیتوں کو عملی طور پر بلڈوز کر کے ہندوتوا کا بول بالا کر دے گی ۔ یہی چیز مودی کے ہندو ووٹوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ کیونکہ بھارت کا سماجی سافٹ وئیر مکمل طور پر مذہبی اور اقلیتوں کو برداشت نہ کرنے والا بنانے کی کوشش ایک بار پھر تیز تر ہے۔

مودی کی انتخابی مہم میں ہر روز ان کے ملک کے طول وعرض میں لمبے سفروں کے علاوہ جگہ جگہ انتخابی جلسوں سے خطاب اور نئے نئے منصوبوں کا افتتاح ان کی انتخابی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کا موجب بننے کا امکان یے۔ ان کی معاشی کامیابیاں بھی ان کی انتخابی مہم کی کامیابی کی ضمانت بن رہے ہیں۔ بھارت کی ہندو آبادی جس قسم کا سیاسی نظام چاہتی ہے مودی اور ان کے قریبی ساتھی اس کے لئے بہترین انتخاب ہو سکتے ہیں۔ ایک ایسا نظام جو کروڑوں ووٹوں کے ساتھ ترتیب پائے اور پھر کروڑوں شہریوں کو غیر متعلق اور بے اثر کر کے رکھ دے۔

بابری مسجد کی شہادت سے لے کر مندر کی تعمیر تک، ریاست جموں و کشمیر میں فوجی آپریشن کے تیسری دہائی کے بعد بھی تسلسل کے ساتھ شدید تر کیے جانے کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے اور ریاست جموں و کشمیر کے اصل باشندوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دینے کی حکمت عملی کے عملی اجرا ، شہریت کے نئے قانون کے اعلان، مسلمانوں اور مسیحیوں کے ساتھ ساتھ سکھوں کے سلسلے میں آہنی ہاتھوں کا استعمال، گاؤ ماتا کے حق میں اقدامات اور دلتوں کو سیاسی معذوروں کے درجے تک لے آنا مودی کے ہندو ووٹروں کی سطح پر پذیرائی کے اہم حوالے ہیں۔

امکان ہے کہ مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی لوک سبھا کی کل 543 نشستوں میں سے 370 سے 400 تک جیتنے کی کوشش کرے گی۔ بھارتی کی آزادی کی تحریک چلانے والی کانگریس اپنے درجنوں اتحادیوں کے باوجود بظاہر بہت پیچھے بتائی جاتی یے۔ پچھلے الیکشن میں بی جے پی کی لوک سبھا کی 303 نشستیں آئی تھیں۔ یاد رہے بھارت میں 97 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں اور 2400 سیاسی جماعتیں جماعتیں ملک کے طول و عرض میں موجود ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *