May 27, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/corsicabikes.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
عناصر حوثية في صنعاء - فرانس برس

بحیرہ احمر میں ایرانی ساختہ ہتھیاروں، میزائلوں اور ساز و سامان کے ساتھ تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد، امریکی حکام نے اعلان کیا کہ بائیڈن انتظامیہ ایرانی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی نگرانی اور روک تھام کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد تہران کے زیر استعمال سمندری راستوں کا نقشہ بنانا اور اسلحے کی ترسیل کو روکنا ہے۔ امریکی حکام اعتراف کرتے ہیں حوثیوں کی جانب سے مستقبل قریب کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ آپریشن ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں پابندیاں اور سفارتی دباؤ بھی شامل ہے تاہم بنیادی فوجی وسائل کی کمی کے باعث اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک سینیر امریکی اہلکار نے جدید ترین مشن کو “بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کرنے کی ایک نئی کوشش قرار دیا‘‘۔

انتہائی طاقتور

ایک دوسرے سینیر دفاعی اہلکار نے بھی اس کوشش کو “جارحانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن یہ تلاش کررہا ہے کہ کس طرح شریک ممالک امریکی ڈرونز اور دیگر نگرانی کے اثاثوں کے محدود ذخیرے کو ختم کرنے میں مدد کے لیے ایرانی اسلحے کی اسمگلنگ کو روکنے پر اپنی توجہ بڑھا سکتے ہیں جو آپریشن کی کلید ہیں۔

اہلکارنے ان مذاکرات میں حصہ لینے والے ممالک کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن کہا کہ حوثی حملوں سے معاشی طور پر متاثر ہونے والی تمام حکومتوں کو مزید کچھ کرنا چاہیے۔

“بہت اہم”

امریکی جونیر میرین کور کینتھ فرینک میک کینزی جو ایک ریٹائرڈ جنرل جنہوں نے 2019ء سے 2022ء تک امریکی سینٹرل کمانڈ کی قیادت کی نے کہا کہ ایران سے حوثیوں کو مہلک ہتھیاروں کے بہاؤ کو روکنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہمیں اس کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس کے خلاف وسائل لگانے کی ضرورت ہے”۔ میک کینزی نے کہا کہ بنیادی طور پر اس کے لیے نگرانی کے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمیں اپنے اتحادی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے”۔

نومبر کے بعد سے امریکی محکمہ دفاع نے یمن کے قریب تجارتی بحری جہازوں پر کم از کم 105 حملوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں گذشتہ ہفتے کے دوران تقریباً 40 حملے بھی شامل ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ہتھیاروں میں ڈرون، بیلسٹک میزائل اور بحری فوجی ساز و سامان شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *